ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جنید اور ناصر کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے مظاہروں کا خوف،نوح میں انٹرنیٹ بند

جنید اور ناصر کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے مظاہروں کا خوف،نوح میں انٹرنیٹ بند

Mon, 27 Feb 2023 11:17:43    S.O. News Service

نوح، 27/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی ) ہریانہ کے بھیوانی میں گئو اسمگلنگ کا الزام عائد کرکےجنید اور ناصر کو زندہ جلادینے کے معاملےمیں مسلمانوں میں  پھیلے شدید غم وغصے اور انصاف کیلئے ہونے والے مظاہروں  سے انتظامیہ چوکنا ہوگیاہے۔

 جمعہ کو احتجاج کے دوران فیروز پور جھرکا میں مظاہرے اور نوح -الور شاہراہ کو ایک گھنٹے تک کردیئے جانے کے بعد بی جےپی سرکار  نے مزید مظاہروں کے امکان کو دیکھتے ہوئے  نوح  میں  اتوار سے منگل تک  یعنی  ۳؍ دنوں کیلئے انٹرنیٹ خدمات بند کردی ہیں۔  ہریانہ کی بی جےپی سرکار نے اس پابندی کیلئے نوح میں  جنید اور ناصر کی حمایت میں مزید مظاہروں اور ان مظاہروں کی وجہ سے فرقہ وارانہ تشدد نیز نقض امن کے اندیشے کا جواز پیش کیا ہے۔

  بھیوانی میں بھرت پور(راجستھان  ) کے   ۲؍ مسلم نوجوانوں کو زندہ جلادینے کے معاملے کو ۱۰؍ دن سے زائد کا وقفہ گزر جانے کے بعد بھی کلیدی ملزم  آزاد گھوم رہے ہیں جس پر عوام کا غم و غصہ شدید تر ہوتا جارہاہے۔ جمعہ کو نماز جمعہ کے بعد فیروز پور جھرکا میں  مظاہرین نے     ملزمین کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے اس گئو رکشا دل ٹاسک فورس پر پابندی عائد کرنے کی مانگ کی جو گئو رکشا کے نام پر غنڈہ گردی کرنےو الوں کو قانونی جواز  اورحکومت کی سرپرستی فراہم کرتا ہے۔ ہریانہ پولیس نےا س معاملے میں ابتدائی کارروائی کے طور پر ۵۰۰؍ افراد کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ان پر نوح -الور شاہراہ کو جام کرکے عوامی آمدورفت کو متاثر کرنے کا الزام ہے۔  ہریانہ کے علاوہ راجستھان کے گھاٹمیکا  اورجے پور میں  بھی مظاہرے ہوچکے ہیں۔ 

 نوح  جہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے، میں انٹرنیٹ  اور ایس ایم ایس خدمات کو بند کرنے کیلئے جاری کئے گئے حکم میں کہاگیا ہے کہ یہ خدمات اتوار۲۶؍ فروری  سے منگل ۲۸؍ فروری کی رات ۱۱؍ بجکر ۵۹؍ منٹ تک بند رہیں گی۔ عوامی سطح پر یہاں   مزید مظاہروں  کی تیاریوں کی اطلاع کے بعد سیکوریٹی انتظامات بھی  بڑھا دیئے گئے ہیں۔   بینک اور ریچارج کے ایس ایم ایس کو پابندی سے مستثنیٰ رکھاگیا ہے۔ حکومت نے پابندی  کے جواز کے طور پر ’’فرقہ وارانہ کشیدگی اور نقض امن کے اندیشہ‘‘ کو پیش کیا ہے۔  


Share: